[align=center]مچھر نا مہ[/align]
[align=center]مچھر خدا کی عجیب مخلوق ھے جو غالبا دنیا کے ھر خطہ میں بآسانی پیدا ھو جا تی ھے۔ انسانی
تاریخ میں مچھروں کا کیا رول رھا ھے یہ اک الگ موضوع ھے جس پرتحقیقی اور تنقیدی پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ھے۔ بلکہ ریسرچ اسکالرز اسکو پی یچ ڈی کا موضوع بھی بنا سکتے ہیں جو کہ اپنی نوعیت کا بڑا ھی دلچسپ موضوع رھے گا۔ میرا فی الوقت نہ ھی تحقیقی موڈ ھے نہ ھی تنقیدی میں تو اک تخلیق کار ھوں‘ میں آپ کو صرف یہ بتا نا چاھتا ھوں کہ مچھر کا انسان سے خونی رشتہ ھے یعنی بلڈ رلیشن!!۔ اس بات پر آپ کو اگر ھنسی آے تو ضرور ھنسئےگا، مجھ سے آپ اختلاف کر سکتے ھیں مگر میں بھی آپ پر یہ واضح کر دینا چاھتا ھوں کہ انسان نے ھر دور میں اس رشتے کو ماننے سے انکار کیا ھے اور مچھروں نے بھی اپنی پوری کد و کاوش ھر دور میں اس خونی رشتے کو منوانے صرف کردی، اور یہ جدوجھد آج تک جاری و ساری ھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ھے جب میں پھلی بار سعودی عرب آیا تھا تو سب سے پہلے جو کام یہاں کیا تھا وہ ملیریا کا امتحان تھا۔ یعنی سعودی عرب آتے ہی ھم پھلا کام جو یھاں کرتے ھیں وہ ایک خونی رشتے کا امتحان کرتے ھیں۔ بلکہ یوں کھءے کہ یہ خونی رشتوں کا پھلا امتحان ھو تا ھے اور جیسے جیسے یھاں کا قیام طول پکڑتا جاتا ھے ویسے ویسے خونی رشتوں کے امتحانات کا سلسلہ چل نکلتا ھے۔ ملیریا کے امتحان کے زریئعہ مچھر سے خونی رشتے کا تو ھم خون کر ھی دیتے ھیں لیکن اگر غور کر کے دیکھیں تو جتنا طویل قیام پردیس میں ھو گا اتنے زیادہ خونی رشتون کا خون ھو تا رھے گا۔ لیکن گھبرائے مت بعض رشتوں کا تو واقعئ خون ھو جا تا ھو گا۔ اور بعض پر صرف پانی پھرتا ھے۔ اور بعض رشتوں سے عارضی تعلق ٹوٹتا ھے، ھاں مچھر سے جو خو نی رشتہ ٹوٹتا ھے وہ عارضی ٹوٹتا ھے، اور یہ رشتے جب ھم وطن جاتے ھیں تو پوری شد و مد سے اک بار پھر استوار ھونا شروع ھو جاتے ھیں۔
انسان اور مچھر کا یہ رشتہ بڑا اٹوٹ رشتہ ھے اور اس میں اگر غور کریں تو انسان کی ستم ظریفی، طو طا چشمی اور بے اعتنائ ھی نظر آے گی بلکہ یہ رشتہ ایک طرفہ طور پر مچھروں ھی نے انسان سے قا ئم کیا ھوا ھے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جب ھم یہاں سعودی عرب آجاتے ھیں تو عارضی طور پر یہ رشتہ بھی پھیکا پڑ جا تا ھے (بلکہ بعض وقت دیگر رشتے بھی پھیکے ھی پڑ جاتے ھیں) اور جب چھٹی پر وطن جاتے ھیں تو سارے رشتوں میں رنگ بھرنا شروع ھوتا ھے۔
اب آے یہ دیکھتے ھیں کہ یہ ھماری زندگیوں میں کس طرح سے ھوتا ھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ھم وطن پر تھے اور چھٹی منانے گئے تھے۔ ایک عزیز سے ملنے حیدرآباد کے محلے عزیز باغ (ٹولی چوکی) گئے تو مچھروں کے ایک جمع غفیر نے ھمارا استقبال کیا وہ دن اور آج کا دن ھم نے مچھروں کی یاد کو فراموش نھیں کیا اور نہ کبھی کر سکتے ھیں۔ ھزاروں مچھر ھم پر والہانہ فدا ھو رھے تھے، اپنے اتنے زیادہ شائقین اور پرستاروں کو دیکھ کر ھ۔میں اپنی اھمیت، عزت اور توقیر بھرپور احساس ھو رھا تھا کہ وlقعئ ھ۔م بھی کچھ ھیں۔ ھمارے اطراف و اکناف میں مچھروں کا ھجوم بڑھتا ھی جا رہا تھا۔ سر کے اوپر ھمارے شائقین نے ایک سرکل سا بنا لیا تھا۔ ھمارے دونوں کانوں میں باجے کا سا شور تھا، بلکہ منہ، ناک اور دونوں کانوں میں بے شمار مچھر پروانہ وار فدا ھو رھے تھے۔ ایک آدھ غالباْ ھماری سانس کی نالی تک رسائ حl صل کر گیا جس سے ھماری جان پر بن آئ ایک زور کا ٹھسکا لگا اور بڑی مشکل سے ھم نے پوزیشن سنبھالی۔ ھم اپنے دونوں ھاتھوں کو ھلا ھلا کر ھلکان تھے۔ اور دونوں پاوؤں کو بڑی مشکل سے روکے رکھا تھا کہ آخر اور بھی تو لوگ ھیں جو ھمیں دیکھ رھے ھیں۔ بہر حال اسی کسمپرسی کے عالم میں تھے کہ مچھروں کے ایک [/align]




