Click for Jeddah, Saudi Arabia Forecast
UrduGulban Announcement

نئے اراکین بزم کو پرمسرت خوش آمدید۔امید کہ آمد و رفت جاری رہے گی۔ دیکر التماس یہ کہ رجسٹر ہونے والے اپنے شناختی نام قابل فہم رکھیں بصورت دیگر انکی شناخت فورم میں متحرک نہیں کی جاسکیگی۔ شکریہ

MCHCHARNAMA

طنزیہ و مزاحیہ شاعری اور نثری نگارشات کےلئے

Moderator: nayeemjaved

MCHCHARNAMA

Postby MOHAMMED ABDULQADEER » Thu Nov 15, 2007 10:52 am

[align=center]مچھر نا مہ[/align]

[align=center]مچھر خدا کی عجیب مخلوق ھے جو غالبا دنیا کے ھر خطہ میں بآسانی پیدا ھو جا تی ھے۔ انسانی
تاریخ میں مچھروں کا کیا رول رھا ھے یہ اک الگ موضوع ھے جس پرتحقیقی اور تنقیدی پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ھے۔ بلکہ ریسرچ اسکالرز اسکو پی یچ ڈی کا موضوع بھی بنا سکتے ہیں جو کہ اپنی نوعیت کا بڑا ھی دلچسپ موضوع رھے گا۔ میرا فی الوقت نہ ھی تحقیقی موڈ ھے نہ ھی تنقیدی میں تو اک تخلیق کار ھوں‘ میں آپ کو صرف یہ بتا نا چاھتا ھوں کہ مچھر کا انسان سے خونی رشتہ ھے یعنی بلڈ رلیشن!!۔ اس بات پر آپ کو اگر ھنسی آے تو ضرور ھنسئےگا، مجھ سے آپ اختلاف کر سکتے ھیں مگر میں بھی آپ پر یہ واضح کر دینا چاھتا ھوں کہ انسان نے ھر دور میں اس رشتے کو ماننے سے انکار کیا ھے اور مچھروں نے بھی اپنی پوری کد و کاوش ھر دور میں اس خونی رشتے کو منوانے صرف کردی، اور یہ جدوجھد آج تک جاری و ساری ھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ھے جب میں پھلی بار سعودی عرب آیا تھا تو سب سے پہلے جو کام یہاں کیا تھا وہ ملیریا کا امتحان تھا۔ یعنی سعودی عرب آتے ہی ھم پھلا کام جو یھاں کرتے ھیں وہ ایک خونی رشتے کا امتحان کرتے ھیں۔ بلکہ یوں کھءے کہ یہ خونی رشتوں کا پھلا امتحان ھو تا ھے اور جیسے جیسے یھاں کا قیام طول پکڑتا جاتا ھے ویسے ویسے خونی رشتوں کے امتحانات کا سلسلہ چل نکلتا ھے۔ ملیریا کے امتحان کے زریئعہ مچھر سے خونی رشتے کا تو ھم خون کر ھی دیتے ھیں لیکن اگر غور کر کے دیکھیں تو جتنا طویل قیام پردیس میں ھو گا اتنے زیادہ خونی رشتون کا خون ھو تا رھے گا۔ لیکن گھبرائے مت بعض رشتوں کا تو واقعئ خون ھو جا تا ھو گا۔ اور بعض پر صرف پانی پھرتا ھے۔ اور بعض رشتوں سے عارضی تعلق ٹوٹتا ھے، ھاں مچھر سے جو خو نی رشتہ ٹوٹتا ھے وہ عارضی ٹوٹتا ھے، اور یہ رشتے جب ھم وطن جاتے ھیں تو پوری شد و مد سے اک بار پھر استوار ھونا شروع ھو جاتے ھیں۔
انسان اور مچھر کا یہ رشتہ بڑا اٹوٹ رشتہ ھے اور اس میں اگر غور کریں تو انسان کی ستم ظریفی، طو طا چشمی اور بے اعتنائ ھی نظر آے گی بلکہ یہ رشتہ ایک طرفہ طور پر مچھروں ھی نے انسان سے قا ئم کیا ھوا ھے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جب ھم یہاں سعودی عرب آجاتے ھیں تو عارضی طور پر یہ رشتہ بھی پھیکا پڑ جا تا ھے (بلکہ بعض وقت دیگر رشتے بھی پھیکے ھی پڑ جاتے ھیں) اور جب چھٹی پر وطن جاتے ھیں تو سارے رشتوں میں رنگ بھرنا شروع ھوتا ھے۔

اب آے یہ دیکھتے ھیں کہ یہ ھماری زندگیوں میں کس طرح سے ھوتا ھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ھم وطن پر تھے اور چھٹی منانے گئے تھے۔ ایک عزیز سے ملنے حیدرآباد کے محلے عزیز باغ (ٹولی چوکی) گئے تو مچھروں کے ایک جمع غفیر نے ھمارا استقبال کیا وہ دن اور آج کا دن ھم نے مچھروں کی یاد کو فراموش نھیں کیا اور نہ کبھی کر سکتے ھیں۔ ھزاروں مچھر ھم پر والہانہ فدا ھو رھے تھے، اپنے اتنے زیادہ شائقین اور پرستاروں کو دیکھ کر ھ۔میں اپنی اھمیت، عزت اور توقیر بھرپور احساس ھو رھا تھا کہ وlقعئ ھ۔م بھی کچھ ھیں۔ ھمارے اطراف و اکناف میں مچھروں کا ھجوم بڑھتا ھی جا رہا تھا۔ سر کے اوپر ھمارے شائقین نے ایک سرکل سا بنا لیا تھا۔ ھمارے دونوں کانوں میں باجے کا سا شور تھا، بلکہ منہ، ناک اور دونوں کانوں میں بے شمار مچھر پروانہ وار فدا ھو رھے تھے۔ ایک آدھ غالباْ ھماری سانس کی نالی تک رسائ حl صل کر گیا جس سے ھماری جان پر بن آئ ایک زور کا ٹھسکا لگا اور بڑی مشکل سے ھم نے پوزیشن سنبھالی۔ ھم اپنے دونوں ھاتھوں کو ھلا ھلا کر ھلکان تھے۔ اور دونوں پاوؤں کو بڑی مشکل سے روکے رکھا تھا کہ آخر اور بھی تو لوگ ھیں جو ھمیں دیکھ رھے ھیں۔ بہر حال اسی کسمپرسی کے عالم میں تھے کہ مچھروں کے ایک
[/align]
MOHAMMED ABDULQADEER
Gulban Dost
Gulban Dost
 
Posts: 80
Joined: Thu Feb 22, 2007 10:44 am

Postby MOHAMMED ABDULQADEER » Thu Nov 15, 2007 10:55 am

[align=center]غول نے ھم سے اس خونی رشتے کو استوار کرنا چاھا (جسکا ھم آپ سے شروع میں ذکر کر چکے ھیں) تو ھم بلبلا اٹھے۔ ھمارے عزیز باغ والے عزیز جو بڑے غور سے ھماری بے چارگی اور بےبسی کو دیکھ رھے تھے ان سے رہا نہ گیا انہوں نے ارشاد فرمایا اجی حضرت خیر تو ھے آپ کچھ بے چین لگ رھے ھیں۔ ھم نے اپنی جھینپ اور خجالت کو چھپانے کی ھر چند کوشش کی مگر نا کام رھے۔ اسی اثنا میں مغرب کی اذان ھوئ اور ھم سوچے چلو اب تو نماز کے بہانے یہاں سے نکل چلو۔ جب چلے تو یوں لگا کہ سارے زمانے کو ساتھ لے کر چل رھے ھیں۔ سر کہ اوپر وہ مچھروں کا جو سرکل بن چکا تھا وہ بھےھمارے ساتھ ھو لیا۔ کلکہ باھر نکلے تو یوں لگا کہ وہ سرکل کچھ گھنا ھی ھو تا جا رھا ھے، گویا ایک ابر کا سایہ ھے جو ساتھ ساتھ چل رھا ھے۔ اب ھمیں ھوش نھیں کہ ھم یے کیسے وضو کیا اور نماز کو ٹہرے۔ ھزاروں مچھر وlلہانہ ھم پر فدا ھو رھے تھے بعض وفور شوق میں صرف دیدار کی لذت پر اکتفا کئے ھوئے تھے تو بعض غلو عقیدت میں ھم کو چوم رھے تھے تو بعض بغلگیر ھو رھے تھے۔ ان کے درمیان ھماری حالت دیدنی تھی۔ نماز کا خشوع و خضوع تو ایک طرف رھا بڑی مشکل سے کھجاتے،سہلاتے،کھانستے اور ھانپتے ھوئے ھم نے نماز ادا کی اور وھاں سے سرپٹ بھاگے۔


اب آئے ایک اور پہلو کی طرف نظر ڈالتے ھیں وہ یہ ھیکہ انسانوں اور مچھروں میں ازلی رقابت اور دشمنی رھی ھے جو کہ انسانوں کی جانب سے اک طرفہ رھی ھے۔ انسان ھمیشہ مچھروں کی نسل کشی کی کوشش کرتا رہا ھے اور اس امر میں نا کام رھا۔ اسکے بر خلاف مچھروں نے انسانوں کی کبھی نسل کشے نہیں کی بلکہ ھمیشہ خلوص و محبت سے پیش آئے اور خونی رشتوں کا بھرم رکھ لیا۔ بلکہ واقعہ یہ ھیکہ انسانوں کی نسل کی افزائیش اور بقاء کا دارومدار بعض محققین کی رائے کے مطابق مچھروں کا مرھون منت رھا ھے۔ بعض صا ئب الرائے لوگ ایسے بھی ھیں جن کے مطابق ھندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملک کی بڑھتی ھوئی آبادی کا بڑا سبب مچھروں کا خلوص اور وارفتگی رھا ھے جو کہ راتوں کو اکثر کچھ زیادہ ھی انسانوں پر توجہ مرکوز کرتے ھیں اور انسان مچھروں کی چکر میں پڑ کر سب کچھ بھول جاتا ھے اور وہ بھول کر جاتا ھے جو آبادی میں اضافہ کا سبب بنتی ھے۔ بہر حال جو بھی عوامل رھے ھوں مگر مچھروں کا رول نہ صرف یہ کہ انسان کی تہذیب و تمدن میں رھا ھے بلکہ آبادی کے اضافہ میں بھی رھا ھے۔ اسکے باوجود انسان مچھروں کی نسل کے پیچھے پڑا رھا۔

ایک اصطلاح ھے جسکو آپ نے بارھا سن رکھا ھے، وہ ھے ( نسل کشی)۔ حالانکہ انسانوں کی نسل کشی بھی خود انسان ھی کرتا ھے۔ جیسا کہ کسے شاعر نے کیا خوب کہا ھے۔ "قیامت ھے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ھے" یہ واقعہ ھے کہ انسان/انسان کی نسل کشی تو کرتا ھی ھے اس کے علاوہ کئ مخلوقات کی نسل کشی کا بھی مجرم ھے۔ اور مچھر بھس ایک ایسی ھی مظلوم مخلوق ھے جو اس کے ظلم کا شکار رھی ھے مچھروں کی نسل کو ٹھکانےلگانے کے لئے انسان نے کیا کچھ نھیں کیا، ٹورٹائز کی مچھر بتیاں، گوڈ نائٹ کی ٹکیہ، اور اس نوع کی بے شمار مچھر کش اشیاء، مختلف قسم کے اسپرے، کیمیاوی مادے اور دھونیاں، بلدیہ کی گاڑیاں جو مچھر کش ادویہ کا چھڑکاؤ کرتی ھیں، یہ
[/align]
Last edited by MOHAMMED ABDULQADEER on Thu Nov 15, 2007 11:24 am, edited 1 time in total.
MOHAMMED ABDULQADEER
Gulban Dost
Gulban Dost
 
Posts: 80
Joined: Thu Feb 22, 2007 10:44 am

Postby MOHAMMED ABDULQADEER » Thu Nov 15, 2007 10:57 am

[align=center]سارا اھتمام مچھر کی نسل کو ختم کرنے کے لئے ھم انسانوں نے کر رکھا ھے مگر "جسے خدا رکھے اسے کون چکھے" یہ عجیب واقعہ ھے کہ ایک طرف تو انسان کی طاقت جس پر اس کو بڑا ناز ھے، خاص کر عصر حاضر کا انسان جو کہ بڑا ھے سوپر پاؤر والا ھے اور وہ نیوکلئیر ھی نھیں بلکہ کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحہ سے لیس ھے اور دوسری طرف بظاھر بڑی حقیر سی مخلوق مچھر اور صرف مچھر کو انسان ختم نہ کر سکا!!! تو پھر وہ آخر کس سوپر پاؤر کے گھمنڈ میں ھے

۔ قرآن میں اللہ تعالی نے مچھر کا تذکرہ کرتے ھوئے فرمایا کہ وہ مالک الملک ھوتے ھوئے تمام تر طاقتوں کا مالک ھوتے ھوئے بھی مچھر یا اس سے بھی ادنی کس شئی کے تذکرہ سے نھیں شرماتا سبحان اللہ۔ اور ایک روایت میں آتا ھے کہ اس ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ھے اسکی حیثیت اگر اللہ کےنزدیک کسی مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو کسی کا فر کو وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ جو لوگ مچھر کی حیثیت کو حقیر گر دانتے ھیں انہیں جان لینا چاھئے کہ مچھر کیا چیز ھے۔ کہتے ھیں کہ نمرود جو خدائی کا دعویدار تھا اللہ تعالی نے اسے ایک لنگڑے مچحر کے زریعئہ موت کا مزہ چکھا یا۔

میں نے شروع میں مچھروں کے خلوص و محبت کو پیش کیا آئیے اب آخر میں اس بات کے ذکر سے اس موضوع کو اختتام پذیر کرتا ھوں کہ مچھر بعض مہلک بیماریوں کے ایجنٹ بھی ھیں۔ جن بیماریوں کے بارے میں شروع شروع مشہور تھا کہ یہ حضرت مچھر سے پھیلتی ھیں ان میں ملیریا اور فیل پا کو تو سب ھی جانتے ھیں۔ حالیہ چند برسوں میں ھم نے دیکھا کہ چند سر پھرے مچھروں نے انسانوں کو سبق سکھانے کی ٹھانی اور دماغی بخار، ڈینگو بخار اور چند ماہ قبل چکون گنیا جیسی مہلک بیماریوں کو پھیلا کر مچھروں نے اپنی طاقت، اھمیت اور تنظیم کا لوھا منوا لیا۔ یعنی مچھر زبان حال سے کہہ رھے ھیں کہ "ھم بھی کسی سے کم نھیں"۔ اب آگے حضرت انسان پر منحصر ھے کہ وہ اسکو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپنی طاقت کا لوھا منوانے تلا رھتا ھے یا پھر مچھروں کے ساتھ کوئی مصالحت کی روش اختیار کرتا ھے۔ شاعر مشرق نے کیا ھی خوب فرمایا ھے کہ۔

نھیں ھے چیز نکمی کوئی زمانے میں

کوئی برا نھیں قدرت کے کار خانے میں

آخر میں ایک التماس
ھم ملتمس ھیں دنیا کی بڑی طاقتوں سے کہ اقوام متحدہ، جی 8 ،ناٹو، سارک، آسیان اور دولت مشترکہ کے سربراھان ملکر ایک جٹ ھو کر مچھروں کے سربریھان سے جنیوا، نیویارک یا لندن میں ایک چوٹی کانفرنس بلوا کر امن مذاکرات کروائیں اور باقاعدہ امن کے معاہدوں پر دستخت ھوں جسمیں انسانوں اور مچھروں میں بقائے باھمی کی بنیادوں پر امن قائم ھو اور دونوں مخلوقات کی نسلوں کی بقاء کو یقینی بنا یا جا سکے۔
[/align]
MOHAMMED ABDULQADEER
Gulban Dost
Gulban Dost
 
Posts: 80
Joined: Thu Feb 22, 2007 10:44 am

Postby MOHAMMED ABDULQADEER » Thu Nov 15, 2007 11:09 am

[align=right]السلام علیکم

معزز قارئین ایک مزاحیہ مضمون بعنوان مچھر نامہ پیش خدمت ھے۔ میری اپنی تحریروں میں سے یہ پہلی تحریر ھے جسے شریک بزم کر رھا ھوں امید کہ پسند آئے گی۔

فقط

قاری محمدعبدالقدیر
[/align]
MOHAMMED ABDULQADEER
Gulban Dost
Gulban Dost
 
Posts: 80
Joined: Thu Feb 22, 2007 10:44 am

machhar

Postby aleem khan falaki » Wed Nov 21, 2007 11:31 am

asak

bhai abdul qadeer,

jab koi nae likhne waale ka izaafa hota hai to
bahot khushi hoti hai ke urdu ke weeraane men
koi to naya aaya

aapka mazmoon taweel hai aur aap
ne ye faisla nahin kiya ke ye maaloomati hoga ya
deeni hoga ya mazahiya hoga. iss liye kahin ye
maaloomati aur sanjeeda ho jata hai kahin
iss men deeni maaloomat dar aati hain aur
kahin kahin mazahiya pahloo hain

is tarah aap likhte hue aur padhne waale padhte hue
bore ho jaaenge.

mujhe yaqeean hai aap iss mukhlisana tabsere per
bura nahin maanen ge

aleem
aleem khan falaki
NAZIM
NAZIM
 
Posts: 116
Joined: Sat May 13, 2006 9:47 pm
Location: jeddah

Postby Nadir Sargiroh » Wed Nov 21, 2007 7:24 pm

AbdulQadeer saheb

:salaam2:

MaiN ye tabsirAh iss liye nahi kar raha ke ye ...
aapki pehlee tehreer hai.


Balke.............

Tabsirah iss liye kar raha hooN ke pehlee tehreer par
tabsiraH karna zaroori hota hai.


Aleem saheb ki iss baat se maiN mutt'tafiq hooN ke mazmoon
meN aap ne apne zahen ke GhoRay... dasht toa dasht...
sehra meN bhee dauRaaye haiN...yaAni...har soo.


Chand jumloN aur Al'faaz ki takraar bhee hai.....
Maslan: KHOONI RISHTA.... KHOON.....RISHTA... waghairaH.


aapki tehreer se ye andaaza zaroor lagaaya jaa sakta hai.... ke
aap apney it'raaf ro-numaa honey waale waaqiaAt par tanz-bhari
nigaah daalte haiN aur unnko Mizaah ke paeraaye meN apne zahen meN
mehfooz kar lete haiN...
maslaH agar hai toA buss .... zahen se kaaGhaz par mun'taqili ka.


* Kabhi kabhaar apney dil ko bhalee lagne waali satroN ko ..
dil par pat'thhar rakh kar hazf bhee karna paRta hai.


Hazf kareN......
aapko karna hoga.
User avatar
Nadir Sargiroh
MUNTAZIM
MUNTAZIM
 
Posts: 737
Joined: Sat Apr 29, 2006 6:15 pm
Location: Bambai Meri JaaN.............

Postby Webmaster » Fri Nov 23, 2007 4:41 pm

Janab Abdul Qadeer Sahib
Assalam alaikum wa rahma
mai koi tabsira nahi karoNga ke do tanz o mizah likhne waloN ke tabsire aa chuke haiN, aur unki aara se aako apni raahoN ka taayun mai zaroor madad milegi. aur aap mazeed bahtar se bahtar tahreerein likhte jaiNge. unki mukhlisana aara ki qadr aapko yaqeenan aik achcha qalamkar bana sakti hai. aapki mazeed khoob se khoobtar tahreeroN ka intezar rahega
shukria
Mahtab
Image

Image
User avatar
Webmaster
MUNTAZIM
MUNTAZIM
 
Posts: 1346
Joined: Thu Apr 27, 2006 8:02 am
Location: Jeddah Saudi Arabia


Return to طنزو مژاح

Who is online

Users browsing this forum: Ask Jeeves [Bot] and 1 guest